Monday, November 7, 2011

Zindagi say Dartay Ho ?



زندگی سے ڈرتے ہو؟




'زندگی تو تم بھی ہو' زندگی تو ہم بھی ہیں


آدمی سے ڈرتے ہو؟


آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں


آدمی زبان بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے


اس سے تم نہیں ڈرتے!


حروف اور معنی کے رشتہِ ہائے آہن سے


آدمی ہے وابستہ


آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ


اس سے تم نہیں ڈرتے!




اِن کہی'سے ڈرتے ہو'


جو ابھی نہیں آئی، اُس گھڑی سے ڈرتے ہو


اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو


پہلے بھی تو گزرے ہیں


دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے


پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزومندی


یہ شبِ زباں بندی ہے رہِ خداوندی


تم مگر یہ کیا جانو


لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں


ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر


نور کی زباں بن کر


ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر


روشنی سے ڈرتے ہو؟


روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں


روشنی سے ڈرتے ہو


شہر کی فصیلوں پر


دیو کا جو سایا تھا پاک ہو گیا آخر


رات کا لبادہ بھی


چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر


رات کا لبادہ بھی


اژدھامِ انساں سے فرد کی نوا آئی


ذات کی صدا آئی


راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے


اک نیا جنوں لپکے


آدمی چھلک اٹھے


آدمی ہنسے ۔۔۔


دیکھو، شھر پھر بسے ۔۔۔ دیکھو


تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

Monday, October 3, 2011




وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں‌ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر

وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر

ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر

شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر

نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں‌ فراز
اب جو زندہ ہیں‌تو کچھ سانس ادھارے لے کر
احمد فراز

Monday, September 12, 2011

Aik Kamra-e-Imtehaan!



بےنگِاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پَرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گھُماتے ہیں
یا سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتےہیں
ہر طرف کَن اَنکھیوں سے بچ بَچا کے تَکتے ہیں
دُوسروں کے پَرچوں کو رَہنما سمجھتے ہیں
شاید اِس طرح کوئی راستہ ہی مِل جائے
بےنِشاں جوابوں کا کچھ پَتا ہی مِل جائے

مجُھ کو دیکھتے ہیں تو
یُوں جواب کاپی پَر ہاشیے لگاتے ہیں
دائرے بناتے ہیں
جیسے اِنکو پَرچے کے سب جواب آتے ہیں
اِس طرح کے مَنظر میں
اِمتہان گاہوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا
نقَل کرنے والوں کے
نِت نئے طریقوں سے
آپ لطُف لیتا تھا! دوستوں سے کہتا تھا

کِس طَرف سے جانے یہ!
آج دِل کے آنگن میں ایک سوال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا ایک سوال لایا ہے
وقت کِی عدالت میں
زندگی کِی صُورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں ایک سوالنامہ ہے
کِس نے یہ بنایا ہے
کِس لیے بنایا ہے
کچُھ سمجھ میں آیا ہے

زِندگی کے پَرچے کے
سب سوال لازِم ہیں..سب سوال مشکِل ہیں
بے نِگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پَرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گُھماتا ہوں 
ہاشِیے لگاتا ہوں 
دائرے بناتا ہوں 
یا سوالنامے کو دیکھتا ہی جاتا ہوں



Saturday, September 10, 2011

Margaey hum to zamanay nay bohat yad kia

اس کو ناقدریِ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گنے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا 

Wednesday, September 7, 2011

Muflis ki Poonji


تمہاری یاد بھی محسن, کسی مفلس کی پونجی ہے
جسے ہم ساتھ رکھتے ہیں ، جسے ہم روز گنتے ہیں

Friday, August 12, 2011

Ab Umer Ki Naqdi Tamam Hoi (Ibne Insha)




اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساھو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے دن لوگو
ہاں اپنی جان کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
یا کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
سب عمر کی نقدی ختم کئے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب نے ہم کو بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
تم سے نہ ملاقات کریں
کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
جب عمر کا آخر آتا ہے
 ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ،
 ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
 تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
 ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
کیا سود بیاج کا لالچ ہے
 کسی اور خراج کا لالچ ہے
تم سوہنی ہو من موہنی ہو
 تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس
 چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے
 سب یار گئے تھے 
جتنے ساھو کار گئے
بس یہ اک ناری بیٹھی ہے
 یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے 
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
 گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے 
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعتِ ماہ و سال نہیں
 وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
جو اپنے جی میں اتار لیا
 لو ہم نے تم سے ادھار لیا
  ابنِ انشاء

Tuesday, August 2, 2011

Husn itni bari daleel nahi


تم بہت جاذب و جمیل سہی 
زندگی جاذب و جمیل نہی
نہ بحث کرو ہار جاؤ گی 
حسن اتنی بڑی دلیل نہی